“شکوہ“ کا تیسرا بند
تھی تو موجود، ازل سے تری ذات قدیم
پھول تھا زیب چمن، پر نہ پریشاں تھی شمیم
شرط انصاف ہے، اے صاحب الطاف عمیم
بوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم
ہم کو جمعیت خآطر یہ پریشانی تھی
ورنہ امت تیرے محبوب کی دیوانی تھی
تشریح: نظم شکوہ کے پہلے دو بند میں علامہ اقبال اللہ سے شکوہ کرنے کا عذر پیش کرتے ہیں۔ اب اگلے بندوں میں اقبال دلائل کے ساتھ اللہ کو مخاطب کر کے مسلمانوں کے کارنامے گنوائیں گے اور مسلمانوں نے جو اللہ کے دین کی خاطر جو تکالیف اٹھائیں ان کا تذکرہ بھی اگلے بندوں میں جابجا نظر آئے گا۔
اس بند میں بیان کیا گیا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کی ذات اتنی قدیم یعنی پرانی جب زمانہ بھی نہ تھا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ شروع سے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ لیکن اس بات سے دنیا والے بے خبر تھے۔ جس طرح ایک باغ میں کوئی پھول موجود ہو مگر باغ والے اس بات سے بے خبر ہوں۔ پھر ہوا چلے اور اس پھول کی خوشبو باغ کے کونے کونے تک پھیل جائے۔ اسی طرح مسلمان ایک ہوا کی طرح اٹھے اور اللہ کا پیغام لے کر دنیا کے کونے کونے تک پھیل گئے۔ اقبال اللہ کو کہتے ہیں کہ سب مخلوقات پر بغیر کسی فرق کے کرم کرنے والے تو ہی انصاف کر کہ کیا کبھی پھول کی خوشبو ہوا کے بغیر پھیل سکتی ہے؟؟
آخری شعر میں کہا گیا ہے کہ ہم دل کی تسلی کے لیے یہ ساری پریشانی اٹھاتے تھے یعنی ہم اللہ کا پیغام پہنچانے کو فریضہ سمجھتے تھے تو صرف اپنے دل کے سکون کے لیے ورنہ ہم پاگل نہ تھے کہ دنیا میں دربدر پھرتے رہتے۔ دنیا کے سپر پاورز ممالک کے ساتھ ٹکر لیتے رہتے۔
اقبال کی شہرہ آفاق نظم “شکوہ“ کا تیسرا بند THird Stanza of Shkiwa By Iqbal
Hamza Sundhu
0
Comments

Post a Comment