“شکوہ“ دوسرا بند ہے بجا شیوہ تسلیم میں مشہور ہیں ہم قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم ساز خاموش ہیں، فریاد سے معمور ہیں ہم نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم اے خدا! شکوہ ارباب وفا بھی سن لے خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے تشریح: یہاں ہم سے مراد اقبال پوری امت مسلمہ کو لے رہے ہیں۔ وہ اللہ تعالی کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری عادت ہے کہ ہم احکام الہی کے آگے سر جھکا دیتے ہیں ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس میں ہمارا فائدہ ہے یا نقصان۔۔ لیکن اب ہم مجبور ہو چکے ہیں ہم تھک چکے ہیں کیونکہ تیرا حکم بھی ہم مانیں اور دنیا کی چکی میں بھی ہم پسیں۔ جس طرح پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اس وقت یعنی آج سے تقریبا سو سال پہلے تقریبا تمام مسلم اقوام مغربی استعماری طاقتوں کے نرغے میں تھے۔ آگے اقبال کہتے ہیں کہ چاہے ہم خاموش ساز ہیں یعنی بول نہیں رہے لیکن ہمارے دل اب فریاد سے بھر چکے ہیں۔ اب اگر ہمارے لبوں پر کوئی گلہ شکوہ آتا ہے تو ہم معذور ہیں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ آخری شعر میں پھر ڈائریکٹ اللہ کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اے اللہ وہ لوگ جو تیری وفا کا دم بھرتے ہیں تجھ پر جان نچھاوڑ کرتے ہیں اور کرتے رہے ہیں اب ان کا شکوہ بھی سن لے۔ وہ جن کو عادت پڑ چکی ہے تیری حمد کرنے کی آج ان سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔ نوٹ: شکوہ کی تشریح لکھنے کا مقصد جواب شکوہ کی آسان تشریح ہے تاکہ آج کا مسلمان اقبال کا اہم پیغام سمجھ سکے۔

1 Comments

Post a Comment

Previous Post Next Post